ًبیجنگ،5؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چین نے اپنی سالانہ اقتصادی شرح پیداوار کو گزشتہ برس کے مقابلے میں کم کر دیا ہے۔ چینی وزیر اعظم نے نیشنل پیپلز کانگریس کے شرکاء سے خطاب کے دوران اقتصادی و تجارتی و ماحولیاتی حکومتی ترجیحات کی وضاحت کی۔چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تائیوان کی مکمل علیحدگی کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لی کیچیانگ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہانگ کانگ کی آزادی کی تحاریک بے فائدہ ہیں۔ نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس آج سے شروع ہوا ہے اور یہ پندرہ مارچ تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں کانگریس سے حکومت کے تمام منصوبوں کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے رواں برس کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لی کیچیانگ نے زور دے کر کہا کہ ایسی کارروائیوں کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا جن کا مقصد تائیوان کو اس کے مادر وطن سے علیحدہ شناخت دینا ہو۔ اپنی تقریر میں چینی وزیراعظم نے کہا کہ اُن کی حکومت تائیوان کے ساتھ رابطوں میں اضافے کی پالیسی جاری رکھے گی۔ اس میں دو طرفہ پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔چینی وزیراعظم لی کیچیانگ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ فضائی آلودگی کا خاتمہ حکومت کی خاص ترجیحات میں شامل ہے،چین کے اوپر وہ نیلا آسمان دوبارہ سے نمودار ہو گا، جو اس آلودگی کے پیچھے چھپ چکا ہے۔انتیس سو اراکین کانگریس کے سامنے انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر چین کو درپیش ماحولیاتی مسائل سے متعلق ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔